یہ عبارت، بابا جی کے ایک مرید نے لکھی ہے۔
حضرت بابا جی کی ولادت لائیلپور کی تحصیل جڑانوالہ کے ایک گاؤں میں صبح صادق کے وقت ہوئی۔ آپ کے دادا مرحوم اپنے وقت کے دانا ولی اور صاحبِ کرامت تھے۔ والد محترم اسرار و رموزِ روحانیت سے واقف حال ہیں، بابا جی کو بچپن سے ہی مختلف علوم سیکھنے کا شوق تھا، آپ نے اس سلسلے میں کئی درگاہوں، درباروں، خانقاہوں میں وقت گزارا۔
بالآخر قدم خود بخود ضلع جھنگ کی طرف لے گئے جہاں پہلی ہی آواز جو کان میں پڑی، اس نے بتا دیا کہ اصلی بارگاہ میں پہنچ گئے ہو۔ "کافر کا ہوں میں بندہ، کافر میرا خدا ہے"۔ دوسری ہی حاضری میں حضرت بابا ڈاکٹر یوسف شاہین قادری قلندری مرحوم نے بیعت کا شرف بخش دیا۔
بابا جی کی بیعت ہوتے ہی، آپ نے فارسی زبان سیکھی، روحانی علوم میں دلچسپی بہت حد تک بڑھ گئی، حکمت اور طبِ نبوی سے جو شوق تھا وہ مزید اجاگر ہوا، پھر اپنے وقت کے ایک نامور صاحب روحانیت حضرت بابا یحیٰی المعروف پیا رنگ کالا نے بھی قبولیت بخشی اور جمعرات کی ایک شام حضرت عثمان ہجویری کی مرقد کے ساتھ دیوار میں گلاب کے پھولوں کا ہار ڈالا کہ "آ گیا میرا غزالِ کستورہ"۔
نام
بابا جی کا کوئی نام نہیں ہے، بابا جی صرف بابا جی ہیں۔ برائے کرم اپنی خط و کتابت میں بھی صرف "بابا جی" ہی لکھا اور پکارا جائے۔
In brief
This account was written by one of Baba Jee’s disciples. It is his testimony, not this site’s claim, and it is left in the language he wrote it in.
Baba Jee was born near Jaranwala, in what was then Lyallpur. He took bay‘ah from Hazrat Baba Dr Yusuf Shaheen Qadri Qalandari, and was afterwards accepted by Hazrat Baba Yahya, known as Piya Rang Kala. He learned Persian, and studied hikmat and tibb-e-nabawi.
Baba Jee uses no name. Write and address him only as “Baba Jee” — in correspondence as much as anywhere else.